Poetry
Meri satayieshi aankhen kahan milenge tujhe
میری ستائشی آنکھیں کہاں ملیں گی تجھے تو آئینے میں بہت سج سنور کے روئے گا
Meri satayieshi aankhen kahan milenge tujhe to aaine mein bahut saj Sanwar ke royega
میری ستائشی آنکھیں کہاں ملیں گی تجھے تو آئینے میں بہت سج سنور کے روئے گا
Meri satayieshi aankhen kahan milenge tujhe to aaine mein bahut saj Sanwar ke royega
عشق میں کب کوئی اصول ہوتا ہے یار جیسا بھی ہو قبول ہوتا ہے Is…
وہ روز بچھڑنے والوں کے قصے سنایا کرتا تھا پھر معلوم ہوا وہ مجھے سمجھایا …
قبر پہ پھول کھلا آہستہ زخم سے خون بہا آہستہ دھیان کے زینے پہ یادوں نے پھر…
Urdu poetry
عشق میں کب کوئی اصول ہوتا ہے یار جیسا بھی ہو قبول ہوتا ہے Is…
وہ روز بچھڑنے والوں کے قصے سنایا کرتا تھا پھر معلوم ہوا وہ مجھے سمجھایا …